Islam is the correct way to live, and we chose to try to live that way

پاکیزہ زندگی

قرآن کریم میں اللہ رب العالمین کا فرمان   پارہ نمبر5سورۃ النساء آیت نمبر124

ترجمہ کننرالایمان: اور جو کچھ بھلے کام کرے گا مر د ہو یا عورت اور ہو مسلمان تو وہ جنت میں داخل کئے جائیں گے اور انہیں تل بھر بھی نقصان نہ دیا جائے گا۔

وہ لوگ جو نیک کام کرتے ہیں خدمت خلق کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں خود بھی باعمل ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی نیک اعمال کی طرف راغب کرتے ہیں جن کا مشن اپنی اور دوسروں کی اصلاح ہے جن کا طرہ امتیاز حسن اخلاق ہے۔ یعنی ہر جگہ ہر کسی سے وہ حسن اخلاق سے مسکرا کر ملتے ہیں۔ ایسے نیک لوگوں کو جومسلمان ہیں اللہ پاک اپنے پاس سے خاص جنت میں داخل فرمائے گا۔ اور جنت پاکیزہ جگہ ہے لہذا وہاں کی زندگی پاکیزہ زندگی ہے۔

ایسے ہی نیک لوگوں میں ایک روحانی شخصیت بابا محمد عمر قادری برکاتی رحمتہ اللہ علیہ ہیں جن کو بہت ہی کم لوگوں نے پہچانا اور جنہوں نے پہچانا وہ اعلیٰ مقام پر ہیں اور کامیاب ترین ہیں۔بابا محمد عمر برکاتی حضور تاج العلماء ببَّا حضور کے مرید تھے۔1935میں آپ نے مارہرہ شریف جا کر بیعت کی۔1954میں ببَّا حضور نے ایک اصلاحی تنظیم بنانے کا حکم فرمایا۔ لہذا کراچی میں مرشد کے حکم پر بزم قاسمیہ برکاتیہ کا انعقاد ہو جہاں ہر جمعرات کو محفل ختم قادریہ ہوتی جس میں بابا محمد عمر برکاتی واعظ و نصیحت اور بیان فرماتے تھے۔1981میں حضور احسن العلماء نے خلافت سے نوازا (ببا کے حکم پر) اور 1985میں بابا محمد عمر برکاتی میمن سوسائٹی حیدرآباد تشریف لائے اور بزم دائرۃ البرکات کا انعقاد کیا۔ لوگوں کو ختم قادریہ کے فضائل بتائے لوگ جوق در جوق ختم قادریہ میں آنے لگے پھر 1993میں بابا عمرقادری برکاتی نے ببَّا کے حکم پر محمد محمود میاں قادری کو خلافت اور اجازت سے نوازا۔ پھر بزم دائر ۃ البرکات کے کاموں میں ترقی ہونے لگی۔10ذیعقدہ2001میں کو  8:20 پربابامحمد عمر قادری برکاتی اپنے رب سے مل گئے۔ اور وصال مبارک ہوا۔ 2001سے2010تک لگاتار10اُعراس پاک ان کے خلیفہ و مریدین اور معتقدین محمد محمود میاں برکاتی کی سر پرستی میں بڑی شان و شوکت سے منار رہے ہیں۔

بزم دائر ۃ البرکات کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ کبھی بزم کے روح رواں محمد محمود میاں قادری برکاتی نے با قاعدہ چندے کے لئے کبھی آواز نہ لگائی۔ بس کام کیا کر رہے ہیں اور انشاء اللہ کرتے رہیں گے۔ خود بہ خودلوگ آتے گئے آتے ہیں اور آتے رہیں گے۔ اور دیتے رہے دیتے رہینگے (انشاء اللہ)۔ کام دِکھتاہے باتیں سنی ان سنی ہوجاتی ہیں۔ لہذا بزم دائرۃ البرکات میمن سو سائٹی حیدرآباد نے ہمیشہ کام کو او ر محنت و محبت کو ترجیح دی۔ اب بزم کی مختصر کا وشیں اور ارادے  (دینی معاملات میں) تحریر کیئے جاتے ہیں۔

1۔         بابا محمد عمر قادری برکاتی کے وصال کے بعد ان کے مزار مبارک کی تعمیر کا کام ہوا۔

2۔         مزار مبارک کے پاس جائے نماز”حیات عمر لطیف“ کی تعمیر ہوئی جہاں وہ لوگ جو جنازے کے ساتھ آتے ہیں نماز کے اوقات میں آسانی سے جماعت یا نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اور اس ہی جائے نماز پر ہر سال عرس پاک میں محفل نعت، محفل، وعظ، و لنگر وغیرہ ہوجاتا ہے۔

3۔ بابا محمدعمر قادری برکاتی رحمتہ اللہ علیہ کے زمانے میں ختم قادریہ شریف کو بہت کم لوگ جانتے تھے مگر بزم کے روحِ رواں محمد محمود قادری برکاتی کی محنت اور محبتوں نے لوگوں کو ان کا گرویدہ کر دیا اور باقاعدہ ہفتہ وار ختم قادریہ جمعہ کے دن عشاء کے بعد مریم مسجد میمن سوسائٹی حیدرآباد میں منعقدد ہوا۔ جس میں لوگوں کی تعداد بڑھتی گئی اور لوگوں کو بے حساب فیض ملنے لگا۔ جس کو کتاب ”ختم قادریہ کی بہاریں‘‘میں شائع کیا گیا ہے۔

4۔لوگوں کو ختم قادریہ پر اعتراض ہونے لگا غیر تو غیر اپنے بھی وسوسوں کا شکار ہوئے کہ یہ کہاں سے آگیا کب شروع ہوا،کہاں سے ثابت ہے۔ تو اس کے جواب میں حضرت استاد محترم محمد محمود میاں قادری برکاتی نے پوسٹر شائع کیا ختم قادریہ کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟اس میں 456سال پہلے کی تاریخ کا حوالہ دیا گیا کہ اس وقت سے ختم قادریہ پڑھا جا رہا ہے۔ یہ کوئی نئی چیز نہیں۔ یہ ایک ایسی کوشش تھی جس کو کراچی اور انڈیا میں بھی سراہا گیا۔

5۔ختم قادریہ شریف کو مقبول عام کر نے کی غرض سے چھوٹے پاکٹ سائز کارڈ بنوائے گئے۔ تاکہ ہر شخص ہر وقت اپنے ساتھ ختم قادریہ شریف کے وظائف رکھ سکے۔ یہ کارڈز بھی کراچی، لاہور اور ہندوستان(انڈیا، مارہرہ شریف، گجرات، وغیرہ) میں متعدد بار، منگوائے گئے۔ اور یہ کارڈ زفی سبیل اللہ بزم نے اپنے اخراجات سے بھجوائے (مخیر حضرات کے تعادن سے)

6۔ مختلف جگہوں پر مدارس کے قیام کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں میمن سوسائٹی میں طالبا ت کا مدرسہ جہاں ناظرہ قرآن پڑھایا جاتا ہے۔ اور میمن ٹاؤن میں ایک مدرسہ جہاں طلباء کو پڑھایا جاتا ہے۔

7۔ایک اور اہم کوشش تحریرات کی ہے۔ محمد محمود میاں قادری برکاتی تقریباً 35چھوٹی اورآ سان اردو میں کتابیں تحریر کی۔ جس کے فوائد بے شمار ملے۔ مثلاً ختم قادریہ کی بہاریں پڑھ کر لوگ زیادہ تعداد میں آنے لگے۔ بسنت پڑھ کر کئی لوگو ں نے توبہ کی۔ ویلنٹائن ڈے پڑ ھ کر ایک آفس کے اسٹاف نے اپنے باس کا بائیکاٹ کیا اس بات پر کے وہ ہر سال ویلنٹائن ڈے منا تااوراپنے اسٹاف کوویلنٹائن ڈے پر تحفہ پیش کرتا تھا۔ مقدس آغوش پڑھ کر لوگوں نے اپنے بچوں کے عقیقے کئے اور سالگرہ پڑھ کر لوگوں نے غلط طریقے سے سالگرہ چھوڑ کر اپنی برتھ ڈئے پر اپنے گھروں پر محفل نعت محفل ختم قادریہ اور نیک محافل سجائی۔ پیٹ میں انگارے پڑھ۔ کو لوگ میت کے کھانے سے تائب ہوئے۔

8۔ سب سے بڑی اور اہم کوشش ویب سائٹ کا بنانا تھا جس کا نام WWW.FAIZANEBARKAT.NETجس سے دنیا بھر میں پیغام اعلیٰ حضرت کو پہنچا یا گیا اور لوگوں کے بے شمار اچھے Comments ملے۔

9۔ بزم کے روح رواں محمد محمود میاں قادری برکاتی 2010میں بغداد شریف گئے تو وہاں بھی اپنے چاہنے والوں کو نہ بھولے اور  فون پر براہ ِراست غوث پاک کی بارگاہ سے ختم قادریہ پڑھوایا۔

10تعویزا ت، وظائف و استخارہ کے ذریعے بے بس و پریشان لوگوں کے مسائل حل کئے گئے اور کئے جا رہے ہیں۔

11۔ بزم کے پلیٹ فارم پر ہر سال لیڈیز اور جینٹس سوٹ اور راشن اور نقد امداد کی جاتی ہے جو غریب اور مستحق لوگوں کے علاوہ دینی مدارس میں بھی پہنچائی جاتی ہیں۔

12۔ بقر عید میں اجتماعی قربانی مشائخ مارہرارہ اور دیگر مشائخ کی بارگاہ میں تحفہ نظر کر نے کے لئے کی جاتی ہے۔ جس میں پہلے سال 11گائے قربان ہوئی دوسرے سال26اور اس سال انشاء اللہ26سے زیادہ کا ارادہ ہے قربانی کو گوشت بزم کے خادمین غریبوں میں تقسیم کر تے ہیں۔

13۔ مفتی اعظم سندھ و بلوچستا ابو حماد الحافظ القاری محمد احمد میاں برکاتی مد ظلہ العالیٰ صاحب کے اشارے پر ببّا حضور کے خلیفہ بابا قاضی عبدالشکور صاحب سے کراچی میں ملاقات کی اور انہیں حیدرآباد آنے کی دعوت پیش کی اور اُن عظیم ہستی کو بزم دائرۃ البرکات میمن سوسائٹی نے لوگوں میں متعارف کرایا۔ یہ وہ ہستی تھی جنہوں نے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی بیداری میں اپنے آنکھوں سے زیارت فرمائی۔

14۔ رمضان المبارک میں کئی سالوں سے اجتماعی اعتکاف کرایا جا رہا ہے۔ جس میں نوجوانوں کی تربیت کی جاتی ہے۔ اور انہیں صرف دنیا دار سے دین داری کی طرف لایا جاتا ہے۔ ایسی کئی لڑکے آج بزم کے خادم ہیں جو پہلے دین سے بلکل دور تھے۔ الحمد للہ آج بزم دائرۃ البرکات میمن سوسائٹی کے خادموں میں زندگی کی ہر اچھے شعبے سے تعلق رکھنے والے خادم موجود ہیں۔ جو خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں۔

سب کاوشوں کے اوپر

برکاتی مسجد

بزم دائرۃ البرکات کے روحِ رواں محمد محمود میاں قادری برکاتی کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ اپنی کوئی جگہ ہو جہاں ہم آزادی کے ساتھ اپنے نظام الاوقات کے ساتھ دینی کاموں میں مصرو ف رہ سکیں۔ کیوں کہ دوسرے کی جگہ پر یا دوسروں کی انتظامیہ میں ہمیں ان کے نظام الاوقات کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ یہ خواہش الحمد للہ پوری ہوئی اور ریلوے ایمپلائز کالونی میں مسجد کے لئے مخصوص جگہ کو دو سال کی مسلسل محنت کے بعد کاغذی اور قانونی طور پر رجسٹرڈ کرایا گیا اور بزم دائرۃ البرکات کے خادم”برکاتی مسجد“کی کمیٹی کے خادم بنے ۱ ذی الحج1430ہجری کو مسجد کی بنیاد ڈالی گئی ۶ رجب ۱۳۴۱کو چھت بھرائی کی تقریب ہوئی ان دونوں پروگراموں میں مفتی اعظم سندھ و بلوچستان مفتی احمد میاں برکاتی صاحب تشریف لائے۔ بنیاد کے وقت مفتی صاحب نے محمد محمود میاں قادری برکاتی کیلئے یہ تاریخی جملے استعمال کئے کہ”یہ خود بھی نیک کاموں میں لگے رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی نیک کاموں کے لئے تیار کر لیتے ہیں“
یکم جولائی 2010محمد محمود میاں قادری برکاتی کی سالگرہ والے دن۸۱رجب ۱۳۴۱؁ھ کو پہلا ختم قادریہ شریف برکاتی مسجد حیدرآباد میں ہوا اور اس علاقے کا نام مارہرہ مطہرہ کے شہنشاہ اور برکاتی سلسلہ کے پیشوا شاہ برکت اللہ رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت سے ”برکاتی نگر“ رکھا گیا اور ایک بار پھر اس روایت کو دہرا یا گیا جس طرح شاہ برکات اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے پریم نگر کا نام تبدیل کر کے برکات نگر رکھا آج برکاتی نگر کے لوگ اپنے علاقہ کے اس نئے نام پر بہت خوش ہیں اللہ پاک انہیں اس نام کی برکت عطا فرمائے آمین۔اس کے بعد بھر پور دعوت طعام ہوئی اور رات گئے تک بزم کے خادم برکاتی مسجد میں رہے۔
۴۱ شعبان۱۳۴۱ ھ پندھرویں رات بعد نماز مغرب مفتی اعظم سندھ و بلوچستان ابو حماد حضرت علامہ مولانا محمد احمد میاں برکاتی صاحب نے باقاعدہ نماز مغرب کی جماعت کرواکر برکاتی مسجد کا باقاعدہ افتتاح فرمایا۔ اس وقت آپ بہت خوش نظر آرہے تھے اور یہاں بھی انہوں نے ایک تاریخی جملہ ارشار فرمایا۔
”آج یہ برکاتی مسجد دیکھ کر ہمیں ہندوستان مارہرہ شریف کی برکاتی مسجد یاد آگئی“
اس موقع پرآپ کے صاحبزادے حضرت علامہ جواد رضا شامی بھی موجود تھے۔ مفتی صاحب نے محمد محمود میاں قادری برکاتی کو برکاتی مسجد کے تعیر کی اس عظیم کوشش پر مبارک باد دیتے ہوئے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار مبارک کی اند ر کی چادر مبارک کی فریم عطا فرمائی۔ الحمد للہ بزم دائرۃ البرکات حیدرآباد کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ہندوستا ن میں پہلی برکاتی مسجد کے بعد یہ دوسری برکاتی مسجد (حیدرآباد برکاتی نگر) ہے جو لوگوں میں مشہور ہوئی اور ہو رہی ہے۔ اللہ پاک تا قیامت اس مسجد کو شاد و آباد رکھے اور مشائخ کا فیض جاری و ساری رہے۔
رمضان المبارک میں بزم کے روحِ رواں محمد محمود میاں قادری برکاتی نے برکاتی مسجد میں بابا محمد عمر قادری برکاتی کے روحانی حکم پر پورا مہینہ اعتکاف کیا۔اس مسجد میں پہلا 10دن کا سنت اعتکاف ہوا جس میں الحمد للہ 45لڑکوں نے سنت اعتکاف کیا اور 15سے زائد لڑکوں نے نفلی اعتکاف کیا جب کے ابھی مسجد زیر تعمیر تھی۔ مگر ان سب میں دین کا جذبہ اور استاد محترم سے محبت کا جذبہ تھا جس کی وجہ سے ان کیلئے یہ تکلیف کوئی تکلیف نہ تھی۔ ان میں کئی لڑکے ایسے بھی تھے جنہیں بزرگان دین کے زیارت نصیب ہوئی اور کچھ لڑکے ایسے تھے جو دین سے بلکل کورے تھے لیکن آج الحمد للہ وہ بزم کے خادم ہیں۔ اس اعتکاف میں 26ویں رات بابا عمر برکاتی کے حکم پر محمد محمود میاں قادری برکاتی نے باقاعدہ مرید بنانا شروع کیا اور تقریبا 40لوگوں کو سلسلہ قادریہ برکاتیہ میں شامل کیا اور کئی لوگ طالب بنے
بچیوں کا مدرسہ زیر تعمیر ہے انشاء اللہ عنقریب افتتاح ہوگا۔ جس کا نام مدرسہ”بابا عمر برکاتی“اور دوسرا مدرسہ بچوں کیلئے ہوگا۔ پلاٹ خرید لیا گیا ہے۔ جس کی تعمیرات کاکام عنقریب شروع ہو جائے گاجس کا نام مدرسہ”قاضی عبدالشکور“رکھا جائے گا۔ اور عنقریب ایک اور پلاٹ خریدا جائے گا۔ جس پر کلینک بنانے کا ارادہ ہے جس کا نام”خلیل ملت“کلینک رکھا جائے گا۔
اس کے علاوہ بزم دائرۃ البرکات سلسلہ قادریہ برکاتیہ کے یوم وصال کے دن کو یاد رکھ کر فاتحہ خوانی کرواتی ہے اور اس ان کے فضائل و کمالات پر بیان ہوتے ہیں۔ اور بزرگان دین کے پیدائش کے دن کو یاد رکھ کر اس دن اہتمام کے ساتھ پروگرام منعقد ہوتا ہے جس میں اللہ کا شکر عطا کیا جاتا ہے کہ اللہ نے ہمیں مشائخ کی صورت میں اتنی بڑی نعمت عطا فرمائی۔ اور فاتحہ خوانی اور نیا ز اور لنگر ہوتے ہیں۔ الحمد للہ برکاتی مسجد میں ہرہفتہ بعد نمازجمعہ ختم قادریہ اور لنگر کا آغاز ہو چکا ہے۔اس کے علاوہ اس سال۰۱۰۲ میں مفتی خلیل خان برکاتی کے عرس کے موقع پر برکاتی مسجد برکاتی نگر میں بعد نماز جمعہ ایک محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں مفتی اعظم سندھ وبلوچستان مفتی احمد میاں برکاتی نے بیان فرمایا اور ان کے ساتھ جواد رضا برکاتی الشامی اور دیگر علماء کرام بھی تشریف لائے۔محفل کے بعد لنگر کا اہتمام کیا گیا۔
بزم دائرۃالبرکات کے پلیٹ فارم پر معتدد علماء کرام تشریف لا چکے ہیں۔ جن کے بارگاہ میں بزم تحفہ تحائف پیش کر تی ہے۔ اور ان کی دعا ئیں حاصل کرتی ہے ہم تمام علماء و مشائخ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کر تے ہیں۔کہ وہ بزم دائرۃ البرکات میمن سوسائٹی حیدرآباد سے محبت فرماتے ہیں.

آئندہ کے ارادے (انشاء اللّٰہ)

دارالافتاء

انشاء اللہ برکاتی مسجد میں ایک عظیم الشان دارالافتاء کا انعقاد کیا جائے گا۔ جس میں شہر کے بہترین مفتیان کرام تشریف فرما ہونگے۔

خدّامُ المسلمین

انشاء اللہ برکاتی مسجد میں ایک دفتر قائم کیا جائیگا جس کا نام خدام المسلمین رکھا جائیگا۔ جہاں لوگوں کے مسائل سنے جائینگے اور تعویزات کے ذریعے استخارے کے ذریعے اور مشوروں کے ذریعے ان کے مسائل حل کئے جائینگے۔اس کے علاوہ خدام المسلمین میں کفن اور غسل کا بھی انتظام ہوگا۔

لائبریری

انشاء اللہ برکاتی مسجد میں لائبریری قائم کی جائے گی جس میں شریعت اور طریقت سے متعلق نادر و نایاب کتب کا ذخیرہ جمع کیا جائے گا۔

نعت اکیڈمی

انشاء اللہ برکاتی مسجد میں ایک نعت اکیڈمی کھولنے کا پرگروام ہے جس کے لئے ہمیں بہترین نعت خوانوں کی ضرورت ہے جو لڑکوں کو نعت پڑھنا سکھا سکیں۔
یہ سب جو آپ نے پڑھا یہ بزم دائرۃ البرکات کی پہلی سیڑھی ہے۔ آپ دعا کریں کے اللہ پاک اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہمیں جی جان سے دین کی او ر بزم کی خدمت کر نے کی توفیق عطا فرمائے جو لوگ بزم کے ساتھ خود آگے بڑھ کر تعاون فرماتے ہیں یا فرمائیں گے اللہ تعالیٰ انہیں دین و دنیا کی نعمت سے مالامال فرمائے اور بزم کے تمام خادمین کواخلاص اور جذبہء خدمت سے مالا مال فرمائے اور ہمارے استاد محترم محمد محمود میاں قادری برکاتی کو عمر خضر عطا فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

خاک پائے مشائخ عظام

محمد صدیق میا ں برکاتی

(خادم بزم دائرۃ البرکات میمن سوسائٹی حیدرآباد)

Inspired? Join Us Right Now!

Become a Part of Our Faizan-e-Barkat
Join Bazm-e-Daira tul Barkat

Contact Us

Barkati Masjid, Barkati Nagar, Railway Employees Colony,Qasimabad, Hyderabad

Copyright © 2022 by Faizan-e-Barkat. All rights reserved Powered by: 1linkmedia.